"پاگل خانے میں جوانی کے مزے"
ہیلو فرینڈز میرا نام عظمیٰ ہے۔ یہ میری سچی کہانی ہے۔
میں پیشے کے لحاظ سے ایک نرس ہوں میری عمر پچیس(25) سال ہے اور میرا جسم بھرا بھرا اور انتہا کا سیکسی ہے۔ میری کمر 24 مموں کا سائز 34 اور گانڈ کی گولائی 38 ہے۔ میری ڈیوٹی لاہور کے پاگل خانے میں ہے۔ یہ تین سال پہلے کا واقعہ ہے جب میری عمر بائیس برس تھی۔ پاگل خانے میں ایک نوجوان لڑکے کو لایا گیا۔
وہ لڑکا کسی امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا کیونکہ اس کے گھر والوں نے وارڈ کی بجائے اُس لڑکے کےلئے پرائیویٹ کمرے کا انتظام کروایا۔
وہ جسمانی لحاظ سے بہت تندرست اور خوبصورت لڑکا تھا لیکن نجانے کس وجہ سے اُس کی ذہنی حالت ایسی ہوگئی کہ وہ پاگل خانے تک پہنچ گیا۔
دو دِن کے بعد ہمارے ہسپتال کے انچارج نے مُجھے اپنے آفس میں بُلایا اور کہا کہ مُجھے اپنی ڈیوٹی کا سارا وقت اس پاگل لڑکے کے رُوم میں گزارنا ہوگا۔
چار دِن میں نے اُس لڑکے کے کمرے میں گزارے پھر میری ڈیوٹی رات کی شفٹ میں بدل گئی۔
وہ لڑکا چُپ چاپ لیٹا بس چھت کو دیکھتا رہتا جبکہ میں کمرے میں بیٹھ کر اپنے موبائل پر فلمیں وغیرہ دیکھتی رہتی اور صبح آٹھ بجے دوسری نرس کو چارج دے کر گھر چلی جاتی۔
ایک رات گوگل پر سرچ فلم سرچ کرتےہوئے ننگی فلموں کی ایک ویب سائیٹ کُھل گئی۔
پہلے تو میں گھبرا گئی لیکن پھر سوچا مریض تو سویا ہوا ہے اُس کو کیا پتہ چلے گا اس لئے ایک ننگی فلم دیکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
میں نے فلم لگالی اور بڑے غور سے فلم دیکھنے لگی۔
پانچ منٹ بعد ہی فلم میں لڑکا اور لڑکی کپڑے اتار کر ایکدوسرے کے جسم کو چوم چاٹ رہے تھے۔
اتنے تک دیکھنے کے بعد میرے اندر ہلچل مچا شروع ہوگئی لہٰذا میں نے فلم بند کردی اور پانی لینے کےلئے کرسی سے اُٹھی تو اُسی وقت اس نوجوان مریض جس کانام فہد تھا کی بولنے کی آواز آئی جس سے میں اُس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
میں اُس کے بیڈ کےقریب جا کر سُننے کی کوشش کرنے لگی کہ وہ کیا کہہ رہاتھا۔
میں نے غور کیا تو سمجھ آئی کہ وہ نیند کی حالت میں کسی شمائلہ کا نام لے کر کہہ رہاتھا "شمائلہ اپنی ٹانگیں کھولو مُجھے اپنی چُوت چاٹنے دو"
یہ بات سُن کر میرے جسم کو ایک عجیب سی جھرجھری سی آگئی اور اسی دوران میری نظر فہد کے اوپر دی گئی چادر پر پڑی جو پیٹ کے تھوڑا نیچے سے اوپر کی جانب اُٹھی ہوئی تھی۔
میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر چادر ہٹا کر دیکھا کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔۔
جیسے ہی چادر ہٹی تو میری آنکھیں حیرت کی وجہ سے کُھلی کی کُھلی رہ گئیں۔
فہد کا ٹراؤزر نیچے کی طرف اترا ہواتھا اور اُس کا تقریباً 9 انچ لمبا لنڈ بالکل سیدھا تن کر کھڑا ہوا تھا۔۔
میں حیرت سے آنکھیں پھاڑے فہد کے لمبے اور موٹے لنڈ کی طرف دیکھے جارہی تھی۔
پہلے میرے دل میں خواہش ہوئی کہ فہد کے اس موٹے اور تگڑے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھوں لیکن پھر میں ڈر گئی کہ کہیں اچانک سے کوئی روم میں نہ آجائے اس لئے میں نے جلدی سے فہد کے لنڈ کے اوپر چادر ڈال دی اور جا کر اپنی کُرسی پر بیٹھ گئی۔
میری نظر بار بار سوئے ہوئے فہد کے اکڑے ہوئے موٹے لنڈ کی جانب اُٹھنے لگیں اور میری سانسیں تیز ہونے لگی اور میرے مموں کے نِپل سخت ہونے لگ گئے۔
اُس وقت تک رات کے دو بج چُکے تھے۔مجھے خیال آیا کہ اس وقت تو اس طرف کوئی بھی نہیں آئے گا تو مُجھے ایک بار پھر فہد کے لنڈ کو دیکھنا چاہئیے۔
میں نے اہستہ سے کمرے کا لاک لگایا اور فہد کے بیڈ کے پاس آگئی۔
میں نے فہد کے پیٹ سے چادر ہٹانا شروع کی تو اچانک میرا ہاتھ فہد کے لنڈ کو چھوگیا۔
فہد کے لنڈ کا گرم اور سخت لمس میرے اندر ہلچل مچانے لگا۔
میں نے ایک نظر فہد کی طرف دیکھا جس کو بیڈ کے ساتھ ہتھکڑیاں لگا کر باندھا ہوا تھا اور وہ نیند کی دوا کھانے کے بعد مدہوش سویا ہوا تھا۔
میں نے آہستہ سے فہد کے لنڈ پر ہاتھ رکھا۔۔ اور اُس کو پیار سے سہلانے لگی۔
میرا ایک ہاتھ بےاختیار میرے 34 سائز کے بوبس پر آگیا اور میں نشے میں کھونے لگی۔۔
میں فہد کے موٹے اور لمبے لنڈ کی آہستہ آہستہ مسل رہی تھی اور میرا ایک ہاتھ میرے مموں کو دبا رہا تھا۔
پھر میرا دل کیا کہ فہد کے لنڈ کو مُنہ میں لینا چاہئیے جس کے بعد میں اپنے ہونٹ فہد کے لنڈ کے پاس لے گئی اور مُنہ کھول کر لنڈ مُنہ میں لیا۔
فہد کا لنڈ اتنا موٹا تھا کہ مشکل سے میرے مُنہ میں تھوڑا سا آیا۔
ایسا کرتے وقت میں بالکل مدہوش سی ہوگئی تھی اور میرے ہاتھ کی انگلیاں میری چوت کو بے اختیار سہلانے لگیں۔
فہد کا لنڈ دو تین منٹ چوسنے کے دوران ہی میری چوت بہت گرم اور گیلی ہو چکی تھی۔
میں اتنے مزے میں آچکی تھی کہ اب فہد کا لنڈ آدھے سے زیادہ اپنے مُنہ میں ڈال کر چوس رہی تھی۔
پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اپنی قمیض بریزئیراور شلوار اتار کر پھینک دی اور بیڈ پر آکر فہد کے تنے ہوئے لنڈ کی ٹوپی اپنی گیلی چوت پر رگڑنے لگ گئی۔
فہد اس دوران نیند کی دوا کی وجہ سے گہری نیند سویا ہوا تھا۔
تھوڑی دیر فہد کا لنڈ اپنی چوت پر رگڑنے کے بعد میری چوت فہد کا لنڈ اپنے اندر لینے کےلئے مچلنے لگی کیونکہ اس سے پہلے تقریباً تین سال قبل میری چوت نے میرے چھوٹے کزن کا لنڈ اپنے اندر لیا تھا۔ اور اُس سے پہلے ایک بار میرے ابو کے دوست نے میری چوت کا مزہ لیا تھا
میں نے فہد کے لنڈ کی ٹوپی اپنی چوت کے سوراخ پر رکھی اور آہستہ آہستہ نیچے ہونے لگی۔
فہد کا موٹا لنڈ میری چوت میں پھنس پھنس کر اندر جارہا تھا حالانکہ میری چوت گیلی بھی تھی۔
مجھے ہلکے ہلکے درد کے ساتھ انتہا کا مزہ بھی آ رہا تھا۔
جب فہد کا آدھا لنڈ میری چوت کے اندر چلا گیا تو میں نے اپنے چوتڑوں کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہلانا شروع کردیا۔۔
دو تین جھٹکوں کے بعد فہد کا تقریباً پورا لنڈ میری چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا اور میں مزے کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔
چدائی کے مزے کی شدت سے میرے 34 سائز کے ممے تن گئے تھے اور مموں کے بھورے نپلز بھی تن گئے۔
فہد کے لنڈ پر اچھلنے کے دوران میرے ممے اوپر نیچے ہِل رہے تھے اور میرے مُنہ سے بےاختیار اُووووووں۔۔۔آہ آہ۔۔اوہ یس کی آوازیں نکلنا شروع ہوگئی۔
پانچ منٹ کے بعد میری چوت فہد کے لنڈ پر تیزی سے اچھلنے لگی اور میں مزے کی شدت سے سسکیاں لیتے ہوئے آہ۔۔آہ۔۔اُوہ۔۔۔اوہ یس۔۔فک می ہارڈ۔۔فک مائی پُسی کہتے ہوئے اپنے چوتڑوں کو تیزی سے اوپر نیچے حرکت دینے لگی۔
اس کے ساتھ ہی میری چوت میں گرم گرم فوارہ سا ابل پڑا۔۔فہد کا لنڈ اپنی منی میری چوت میں چھوڑ رہا تھا۔۔
میری چوت جو پہلے ہی فارغ ہونے والی تھی گرم منی اندر گرتے ہی انتہائی شدت سے پھولنے پچکنے لگی اور میری چوت نے بھی اپنا پانی چھوڑ دیا۔
میں فہد کے اوپر ہی ننگی لیٹ کر تیز تیز سانسیں لے رہی تھی جبکہ فہد مسلسل بیہوشی کی دوا کے زیرِاثر سو رہاتھا۔
میں نے اپنی چوت اور فہد کے لنڈ کو صاف کیا اور پھر یونیفارم پہن کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔
اس کے بعد فہد تین ماہ ہسپتال میں رہا اور ہر ہفتے میں کم از کم ایک سے دو بار میری چوت فہد کے لنڈ سے اپنی پیاس بجھاتے رہی۔
ختم شد ۔۔۔

Nice story
ReplyDelete