کنوارا لڑکا مکمل کہانی | Kanwara Larka Full Story

 


کنوارا لڑکا مکمل کہانی 

میرا نام سنی ہے اور میں پنڈی میں رہتا ہوں میرا قد چھ فٹ ہے اور عمر ۲۴ سال ہے اور قدرت نے رنگ روپ بھی خوبصورت دیا ہے جسکی وجہ سے میرے محلے اور آفس کی لڑکیاں مجھ پر اکثر مرتی رہتی ہیں اور ہاں دوستو یہ تو بتانا بھول گیا کہ میرے لن کا سائز نو انچ ہے اور موٹائی ڈھائی انچ کے قریب ہے۔
سنانے جا رہا ہوں وہ کچھ دن پہلے کا ایک واقعہ ہے جو میرے ساتھ پیش آیا ہے۔
ہر انسان کی طرح میر ابھی مسلس کو بہت دل کرتا ہے لیکن بہت کوشش کرنے کے کرنے کا کوئی بھی موقع میں اتمال ہے میں آج تک کو گروی ہوں
ہاں تو اب آتے ہیں اس واقعے کی وی و پردوں سے اسے ایک لنگوئیے دوست کی شادی ہوئی جو کہ میرے ہی محلے میں رہتا تھا لیکن جہا سے جانے میں مجھے گھر کے باہر جانا پڑا اسکی وجہ سے میں اسکی ہے شادی میں شرکت نہ کر سکا۔ واپس آکے لئے ی وہ میں نے شادی کی مبارکباد دی اور سہاگ رات کے بارے میں پوچھا لیکن وہ خاموش رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد اسے کہا کہ میں تمہیں اپنی بیو سے ملواتا ہوں۔ میں دو سے مات مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہی آیا ۔ اتنی گوری چٹی اور خوبصورت ہو گی اسکی بیوی یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا اور
اس کا فگر ایسا کہ پوچھو ہی مت۔ وہ میری ہی عمر کی تھی اور اس کا نام ماریہ تھا۔ میں نے جیب سے پانچسو کا ) کڑک نوٹ نکالا اور جھوٹ سے ماریہ کو دے دیا کیوں کہ میں پہلی بار اس سے مالا تھا اور اسنے جھجاتے ہوے
قبول کر لیا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا واہ یار تیری بیوی تو بہت خوبصورت اور سکسی ہے۔ میرے دل سے بے اختیار نکلا کہ کاش میری بیوی بھی ایسی ہی خوبصورت ہو۔ ماریہ بھی مجھے اپنی بڑی
بڑی آنکھوں سے بار بار دیکھ رہی تھی۔ خیر میں نے چائے وغیرہ پی اور اپنے گھر چلا آیا۔

کچھ دنوں بعد جب میں اپنے گھر اپنی با نیک کو دھو رہا تھا کی اچانک مار یہ اپنے گھر سے نکلی اسکے ہاتھوں میں کچھ برتن تھے جسکو دھونے کے لیے وہ میرے گھر آئی تھی کیوں کہ اسکے گھر کی پانی کی موٹر خراب ہی گئی تھی اور برتن دھونے کا پانی نہیں تھا۔ وہ برتن دھونے بیٹھ گئی اور میں اپنا موٹر سا نکل دھونے لگا۔ کہ اچانک میری نظر ماریہ پر پڑی تو اسکے کھلے گلے سے گورے چٹے مموں کی جھلک دکھائی دی جب وہ نیچے کو جھکتی تو مے زیادہ کھل کر نظر آتے۔ میں تو اپنا کام ہی بھول گیا اور ایک تک اسکو ہی دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد ماریہ کو بھی احساس ہوا کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں لیکن وہ کچھ بولی نہیں اور کچھ ایسے انداز سے بیٹھ گئی کہ مموں کے درشن کچھ زیادہ ی ہو تا ہے میں تو مالک کی کرنٹ دوڑ گیا اور میر اور ائن خائن کھڑا ہو گیا۔ اس طرح میں نے کئی بار دور مبانی دی ان کیئے اور آخر ایک دن قسمت کی دیوی مجھے پر مہربان ہو ہی گئی ۔ وہ میرے گھر میں ہو اسے تھی کہ میں کی ہولی میں کچھ خرابی ہے آپ چل کر ذرا دیکھ لیں۔ میں ماریہ کے ساتھ چل پڑا جو کوئی والے کمرے میں گیا تو اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا جسکا مجھے پتہ نہ چلا۔ اسکے تھے میں کو ہی کھاں تھانہ میں بھی وہی کو چیک کرنے لگا کہ ماریہ نے نہیں مجھے پیچھے سے آکر اپنی بانہوں میں پکڑ لیا اور مجھے اپنی پر اسکے عموں کی رگڑ کا احساس ہوا اور میرے من نے ایک مگر ای میل کی ہی نکل آئی لین میں نے جان بوجھ کر ماریہ سے کہا کہ بھابی یہ کیا کر رہی ہو تو وہ کہنے لگی کہ جو تمہیں دکھ رہا ہے۔ ماریہ نے مجھے کس کرنا شروع کر دیا میرے ہونٹوں کو وہ بہت بری طرح سے مل رہی تھی تو مجھے بھی جوش
آ گیا اور جوابا میں بھی اسکو کس کرنے لگ گیا اور اسکو اپنی بانہوں میں دبانے لگ گیا اور اسکو کھینچ کر صوفے پر لٹا دیا اور خود سکے اوپر چڑھ گیا دس منٹ تک میں اسکو چومتار ہا۔ پھر میں نے اسکی قمیض اتار دی اور کالی برا میں قید اسکے گورے گورے مموں کو دیکھ کر مجھ سے صبر نہ ہوا اور ایک ہی جھٹکے میں اسکی برا بھی نکال دی تو اسکے ممے اچھل کر باہر کو د پڑے۔ واہ کیا مے تھے۔ میں تو جیسے پاگل ہی ہو گیا اور اسکے

مموں کو ہاتھوں سے دبانے لگا۔ ۳۸ سائیڈ کے بڑے بڑے مے جنکو دیکھ کر میرے لن نے جھٹکے لگانے
شروع کر دیے تھے لیکن میں نے اپنے لن کو صبر کی تلقین کی کہ صبر کر یار۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے۔ کتنے دنوں کے بعد ماریہ کے خوبصورت، بڑے بڑے اور گورے چٹے مے دیکھنے کول رہے تھے۔ میں نے اپنی زبان مموں کے نپل پر گول گول گھمائی تو ماریہ کے موٹھ سے  نکلی تو میں نے اسکے
مموں کو چوسنا شروع کر دیا ۔ اور وہ آ او  کرنے لگی لیکن میں چوستا ہی رہا اور وہ مزے کی کاریاں بھرتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اسکی شلوار بھی اتار دی اب وہ صرف پینٹی میں میرے سامنے کھڑی تھی ۔ اف نالہ اور میں نے دیکھا کہ اسکی پینٹی گیلی ہو چکی ہے اور اسکی چوت رس چھوڑ رہی ہے۔ میں نے شادی ہاتھ ہی اسکی پینٹی بھی اتار لی اور اسکے مموں کو چومتا ہوا اسکے پیٹ اور پھر اسکی چوت تک کے پانی کی بیوی نے اسکی باتوں کو پھیلا کر اسکی چوت پر اپنی زبان رکھ
دی اور چاٹنے لگا۔ وہ سسکاریاں مار رہی تھی آ پ ی ش ش ش ش او ر وہ وہ اس نے کہا کہ ایساتو تمہارا دوست بی بی کرتا۔ تم یا ایسے الجھے بھی بہت مزا آ رہا تھا کیوں کہ میں نہی نے چوت پہلی بار دیکھی تھی ۔ وہ پوری کی پوری تھی تھی اور یہیں با راتنی خوبصورت اور پیاستی جوانی میرے ساتھ تھی۔ میں تواپنے ہوش ہی اتار دیے اور جسے ہی  اسکی نظر میرے لن پر پڑی تو بے اختیار اسنے اپنے مونھ پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگی کہ سنی تمہارا لن تو گھوڑے جیسا ہے۔ میں کیسے اسکو اپنی چوت میں لو گی میری تو پھٹ جائیگی۔ نہ بابا نہیں تو تمہارے لین سے نہیں
ے
چدواؤں گی اتنا بڑالن میں کیسے جھیل سکوں گی۔ یہ سننا تھا کہ میری تو گانڈ ہی پھٹ گئی لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری اور ماریہ کو دلاسہ دیا کہ کچھ نہیں ہوگا۔ تم فکر نہ کرو۔ میں کوئی زبر دست نہیں کروں گا ہم جتنا لئے سکو گی تو اتنا ہی چوت میں ڈالوں گا۔ یہ سنتے ہی وہ کچھ ڈھیلی پڑی اور ہاتھ بڑھا کر میرے لوڑے کو سہلانے لگی جو اسکے نرم ہاتھوں میں آتے ہی ٹھمکے پہ ٹھمکا لگانے لگا اور ماریہ نے اپنی زبان میرے لن کی
ٹوپی پر پھیر نی شروع کر دی اور میرے پورے وجود میں ایک تھنڈی کی لہر دوڑ اٹھی مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں ہواؤں میں اُڑ رہا ہوں۔ لذت کا احساس میرے لوڑے سے ہوتا ہوا میرے پورے وجود میں پھیل رہا تھا۔ ماریہ اپنی زبان ٹوپی سے لیکر میرے لن کی جڑ تک پھیرتی تو میں پاگل سا ہو جاتا پھر ماریہ نے لن کو اپنے مونھ میں بھر لیا اور لولی پوپ کی طرح چوسنے لگی تقریبا دس منٹ تک چوستی رہی اور پھر مجھے ایسا لگا کہ میں ڈسچارن ہونے لگا ہوں تو میں نے زبر دستی اپنے لن کو اسکے مونھ سے چھڑایا تو وہ پیاسی نگاہوں
سے مجھے دیکھنے لگی۔ میں نے کہا کہ اگر میں ایسانا کرتا تو تمہارے مونھ میں ہی فارغ ہو جاتا۔ پھر میں نے اسکو صوفے پر لٹا کر اکی میں بھی کسی ام پی امکان کو ماریہ کی چہکتی اور گرم چوت پر رکھدیا اور چوت کے دانے کواپنی زبان سے چھیرا بھی دم میں نے اپنی پوری زبان ماریہ کی چوت میں ڈال دی اور میرا ایسا کرنا ماری کیسے جو بنیاد ایک جم میں بھی اور اپنی چوت کو زورزور سے میرے مونھ پر دبانے لگی اور ساتھ ساتھ آیا در میان ہونے لگی او و و و و و و و ورود اف ف ف   ف ف ف سنی میری جان چوستے رہو  بہت مزا آ رہا ہے میں مر جاؤں گی آد ا اور یہ کہتے ہی اسکا بدن ایک دم کٹ گیا اورہ وپی و میکی موٹھ میں ہی ڈسچارج ہو گی ۔ اور میرا مونہ اسکی چوت کے امرت سے اور اس کا کہنا تھا ایک جیسے اسٹرابری کا جوس ہو۔ پھر میں نے اپنا لن ماریہ کی چوت پر رگڑنا شروع کیا جس سے ماریہ کی سسکیاں نکلنے لگیں اور وہ کہنے لگی کہ کیوں تڑپاتے ہو جان پلیز کچھ کرو اور میں نے موقع غنیمت جان کر اپنے لن کی ٹوپی کو چوت کے سوراخ پر رکھا اور ایک پاور فل جھٹکا لگاتے ہوئے اپنے لوڑے کو ماریہ کی چوت میں ڈال دیا ۔ میر الن صرف تین انچ ہی اندر اس کا اور اس سے بھی ماریہ کی ایک چیخ نکل گئی اور میں و ہیں پر سٹاپ ہو گیا تا کہ ماریہ تھوڑی ریلیکس ہو جائے اور اپنے ہونٹوں کو ماریہ کے ہونٹوں پر رکھ کر اسکوفرنچ کس کرنے لگا، جب دیکھا کہ وہ نارمل ہو گئی ہے تو آہستہ آہستہ اپنے لن کو اندر باہر کرنے لگا لیکن صرف تین انچ تک ہی محدود
رہا۔ جس سے ماریہ کو بہت مزا آیا اور وہ آ  او  کرنے لگی۔
میں نے لوہا گرم دیکھ کر آخری چوٹ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اور ایک زبر دست جھٹکے سے اپنے باقی لن کو ماریہ کی چوت میں ڈالنا چاہا اور ماریہ ایک دم ہی چلائی اوئی ماں مرگی نکالو با ہر اسکو میں مر جاؤں گی
پلیز مت کرو مجھے نہیں کرنا۔ لیکن جب میں نے دیکھا تو میرا لن ابھی بھی تین انچ باہر ہی تھا۔ اب میں نے مزید ترس نا کھاتے ہوئے اپنے لن کو تھوڑ اسا با ہر کھینچا اور پھر ایک جھٹکا لگا کر اپنے لن کو جڑ تک ماریہ کی چوت کی گہرائی میں اُتار دیا لیکن ایسا کرنے سے پہلے میں نے ماریہ کا موٹھ اپنے موجھ سے بند کر دیا
تھا۔ وہ میرے نیچے تڑپتی رہی اور انکی آنکھوں کے آنسوں بھی کو کھلنے لگے لیکن میں نے دھکے جاری رکھے اور وہ سکتی رہی مچلتی رہی اور روندی مانوی کچھ دیر کے بعد میں رک گیا تا کہ یوں دونوں چار جھیل ہو جائیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ماریہ نے میرے ہونٹوں کو چوسناسٹارٹ کر دیا تو میں بھی ان عوام سے اپنے لن کو اندر باہر کر نا شروع کر کورتی دیا۔ اب درد کی جگہ مرے نے لے یا اس با کون بھی لیکن سکیاں اور میں بھرتی رہی لی سے اور پھر میں نے اپنے لن کو چوت سے باہر نکالاست کی کسی کو اندر بنے دیا اور پھر ایک جھٹکے سے اندر ڈال
دیا۔ اس باربھی ماری نے درد ان کی کی کوالٹی اٹھا کر میر ان اندر لینے کی کوشش کرنے لگی اور بے اختیارا سکے مونھ سے آہیں اور سسکیاں نکلنے لگی اف ف ف ف ف ف ہائے اوئی ماں ہاں ہاں ایسے ہی کرتے جاؤ واؤ بہت مزامل رہا ہے سنی۔ پھاڑ دو میری چوت کو سارا گھسا دو میرے اندر  تیرے گانڈ و دوست نے بھی بھی مجھے ٹھنڈا نہیں کیا بس اپن پانی نکالا اور گانڈ کو موڑ کر سو جاتا تھا۔ آج تم نے مجھے بتا دیا کہ اصل مرد کیا ہوتا ہے۔
اُف ف ف ف ف ف ف ف ف  شاباش میرے شیر شاباش آهه زور زور سے دھکے لگا ڈاف آف آف آف آف اور یہ کہتے کہتے ایک بار پھر وہ ٹرپ ہوگئی ۔ لیکن
میں نے دھکے چالو ر کھے بلکہ سپیڈ کو اور زیادہ کر دیا۔ اب وہ با قائدہ میرے نیچے تڑپنے لگی اور اپنی ٹانگوں کو دبا کر مجھے کس کر پکڑ لیا اور گہری گہری سانسیں لینے لگی۔ اسکے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھی اور بولی کہ بس راجہ میں اور نہیں سہ سکتی پلیز تھوڑی دیر رک جاؤ۔ تو میں نے اسکو کہا کہ تم نے خود ہی تو مجھے اور میرے لن کو دعوت دی تھی اب کیا ہوا ہے۔ اب تو تمہیں برداشت کرنا ہی ہوگا۔ اب تو میں اپنے لن کی بھوک مٹانے کے بعد ہی رکوں گا۔ پھر وہ کچھ نہیں بولی اور میں دھکے پہ دھکا لگاتا چلا گیا۔ ایسے ہی کرتے کرتے دومنٹ گزرے ہی تھے کہ وہ پھر سے گرم ہوگی اور نیچے سے اپنی گانڈ کو اچھال اچھال کر اپنی چوت میں لن لینے کی کوشش کرتی بلی اور ایک بار ہی گرم ہو گی ۔ پھر ماریہ نے مجھے سید حالنا کر میرے لن پر اپنی چوت رکھ کر بیٹھ گئی اور ابی و مانے بھی ان کو چودنے لگی ۔ اسکے ایسا کرنے سے مجھے بہت مزا آیا۔ کیوں کہ اس نے اپنے حاصل نے آگئے تھے اور جب وہ میران طره مورد
ے
ینےکے لیے چھتی تو اسے مے بھی لکھا ہوا ایک ہے میں تھا۔ میں ہاتھ بڑھا کر سکے مے اپنے سے الی امریکا میں
ہاتھوں میں تھام لیے اور انکو دبانے لگا جس سے اسکو کا مزا کیا اور وہ مزید تیزی سے میرے لوڑے پر اچھل کود کرنے لگی۔ تقریبا دس منٹ بعد ہی والے سے عجیب وغریب آوازیں نکالتی ہوئی
میرے سینے پر ڈھیر ہوگئی کیوں کا
اب تو میں بھی اپنی منزل کے قریب ہی تھا اس لیے میں نے ماریہ سے کہا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو ماریہ نے جواب دیا کہ میری چوت میں ہی اپنا پانی چھوڑ دو میرے راجہ۔ بنا دو مجھے اپنے بچے کی ماں میں
تمہارے بچے کی ماں بنوں گی۔ یہ کہتے کہنے ماریہ نے اپنی ٹانیں پوری طر میں
اٹھا لیں جس سے
لن زیادہ بہتر طریقے سے چوت کے اندر جانے لگا اور میں اس سے زیادہ برداشت نہ کر سکا اور گہرے گہرے جھٹکے لگانے کے بعد اسکی چوت میں پہلی پچکاری چھوڑی پھر دوسری پھر تیسری اور پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا اور میں اسکی چوت میں اپنا آب حیات چھوڑتا چلا گیا ماریہ نے بھی اپنی ٹانگیں کس کر مجھے اپنی
ٹانگوں کے حصار میں جکڑ لیا اور میں بے دم ہو کر ا سکے اپر ہی لڑھک گیا۔ ہم دونوں ہی گہری گہری سانسیں لے رہے تھے۔ کچھ دیر تو ہم دونوں ایسے ہی پڑے رہے پھر میں نے پہل کرتے ہوئے اسکی چوت سے لن کو نکالا اور بیٹھ گیا۔ جبکہ وہ ابھی بھی خُمار میں ڈوبی پڑی رہی۔ بعد میں وہ اٹھی اور اپنے ساتھ مجھے بھی ہاتھ روم میں لے گئی اور ہم دونوں نے مل کر ہاتھ کیا۔ اس نے
اپنے ہاتھوں سے صابن لگا کر میرے لوڑے کو صاف کرنے لگی اور مجھ سے پوچھنے گئی کہ مزا آیا ۔ میں نے کہا کہ ایسا لسا مزار میرا بس چلے تو تمہیں چودتا ہی رہوں۔ یہین کروہ بولی کہ اتنی چدائی کے بعد بھی تمہارا لن ابھی بھی کھڑا ہے۔ کیا ہو تو میں نے کہا کی انکھیا کی بھوک نہیں کی تو وہ کہنے گی کہ تو منا دونہ اسکی بھوک ہوچ کیا رہے ہو ۔ یہ سی والا کڑک ہوگیا اور ماریہ نے فوراً لن کو چوسنا و شروع کر دیا۔ اور ایک بار پھر میں سے جو یہ میں سیا سی کی برائی شروع کر دی۔ چدائی کے بعد ہم جاری دونوں ایک بار پھر نہائے اور کمرے میں ہے کرے میں آتے ہی ماریہ نے میرے ہونٹوں پر اپنے گرم گرم ہونٹ رکھ دیئے اور مجھے کس کرنے سے ہی میں پھر اسے دو بار گرم ہونے لگا لیکن چونکہ بہت دیر لئے نهير ہوگئی تھی اس لیے بہت مشکل سے اپنے آپ کو روکا ہے اور سماریہ سے کہا کہ جان اب میں تمہاری گانڈ چودنا
چاہتا ہوں تو نور پیچھے ہٹ کی کی ان بہت برا ہے یہ تو میں گانڈ کی وہ
دھجیاں ہی اُڑا دیگا۔ اور ویسے بھی میرے خاوند کے آنے کا نام ہو رہا ہے تو میں نے جواب میں کہا کہ ابھی نہیں جب دوبارہ آؤنگا تو پھر ہی تمہاری گانڈ بھی چودونگا اور اسکی رضامندی کو دیکھ کر ایک اسکے گالوں پر ایک چما جما دیا اور پھر ایک دوسرے کو کس کرتے کرتے میں نے ماریہ سے اجازت لی اور اپنے گھر چلا آیا اسکے بعد میں نے ماریہ کی گانڈ کیسے ماری اور ماریہ کی چھوٹی بہن کو بھی کیسے چودا یہ سب پڑھنے کے لیے
آپکے کومنٹس کا منتظر رہونگا ۔

Previous Post Next Post

Contact Form